CTET
امتحان کا ذریعہ ہندی اور انگریزی (Bilingual) ہوگا۔
1️⃣ پیپر 1 (کلاس 1 تا 5) کے لیے ایک ہی مرکزی سوالیہ پرچہ ہوتا ہے، جس میں سب سے پہلے
👈🏻حصہ اوّل: CDP – 30 سوال
👈🏻حصہ دوم: ریاضی – 30 سوال
👈🏻حصہ سوم: EVS – 30 سوال
یہ 90 سوال تمام امیدواروں کے لیے لازمی ہوتے ہیں۔ آگے کی معلومات توجہ سے پڑھیں۔
👈🏻حصہ چہارم: اگر اوّل زبان انگریزی منتخب کی ہو تو سوال نمبر 91 تا 120 (30 سوال) حل کرنے ہوں گے۔
👈🏻حصہ چہارم: اگر اوّل زبان ہندی منتخب کی ہو تو بھی سوال نمبر 91 تا 120 (30 سوال) حل کرنے ہوں گے۔
👈🏻حصہ پنجم: اگر دوم زبان انگریزی منتخب کی ہو تو سوال نمبر 121 تا 150 (30 سوال) حل کرنے ہوں گے۔
👈🏻حصہ پنجم: اگر دوم زبان ہندی منتخب کی ہو تو بھی سوال نمبر 121 تا 150 (30 سوال) حل کرنے ہوں گے۔
📍 *لیکن جن امیدواروں نے کسی ایک زبان کے طور پر اردو منتخب کی ہے، وہ کیا کریں؟*
ایسے امیدواروں کو ایک اضافی (Supplementary) سوالیہ پرچہ دیا جاتا ہے۔
اس اضافی پرچے میں اس اردو زبان کے کل 60 سوال ہوتے ہیں، لیکن سب حل کرنا ضروری نہیں ہوتا۔
اگر آپ نے اوّل زبان اردو منتخب کی ہے تو اضافی پرچے میں سے سوال نمبر 91 تا 120 (صرف 30 سوال) حل کریں۔
اگر آپ نے دوم زبان اردو منتخب کی ہے تو اضافی پرچے میں سے سوال نمبر 121 تا 150 (30 سوال) حل کریں۔
💥 *اضافی ہدایات*
جن امیدواروں نے زبان اوّل اور دوم دونوں ہندی اور انگریزی منتخب کی ہیں، انہیں اضافی سوالیہ پرچہ نہیں ملے گا۔
جن امیدواروں نے کسی ایک زبان کے طور پر اردو منتخب کی ہے، صرف انہیں اضافی سوالیہ پرچہ دیا جائے گا۔
جنہوں نے ہندی/انگریزی اور اردو زبانیں منتخب کی ہیں، وہ خاص طور پر یہ دیکھ لیں کہ زبان اوّل اور زبان دوم کون سی ہے، کیونکہ CTET میں سب سے زیادہ الجھن یہی ہوتی ہے اور وقت ضائع ہوتا ہے۔
زبان اوّل اور زبان دوم کی درست سمجھ نہ ہونے کی وجہ سے کئی امیدوار غلط حصے کے جوابات بھر دیتے ہیں۔
اگر ہندی اور انگریزی منتخب ہوں تو ایک ہی سوالیہ پرچے میں سوال نمبر 91 تا 120 دو بار نظر آتے ہیں۔
اسی طرح سوال نمبر 121 تا 150 بھی دو بار ہوتے ہیں۔
اگر ان میں سے ایک زبان اردو ہو تو مزید الجھن پیدا ہوتی ہے، کیونکہ مرکزی اور اضافی پرچوں میں سوال نمبر 91 تا 120 تین بار اور سوال نمبر 121 تا 150 بھی تین بار نظر آتے ہیں۔
اس مسئلے کا حل یہ ہے کہ فارم بھرتے وقت اچھی طرح یاد رکھیں کہ آپ نے زبان اوّل اور زبان دوم کون سی منتخب کی ہے۔
No comments:
Post a Comment